ہم خوش قسمت ہیں ۔ .We are lucky

 

السلام و علیکم شروع کرتی ہوں اس پاک ذات کےنام سے جس نے ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی بخشی اور ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور ان نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ ہم سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم وہ جو دو جہانوں کے لیے رحمت بنا کربھیجےگئے ہیں ہم ان کے امتی ہیں یہ ہماری خوش قسمتی، خوش بختی ،خوش نصیبی ہے ۔آج میں  آپ کے ساتھ ہمارے پیارے نبی پاک ﷺ کی شفقت، محبت ، الفت اور امت کے لیے تڑپ کا ایک دل افروز واقعہ شیئر کروں گی اس یقین کے ساتھ کے آپ کا ایمان تازہ ہو گا اور آپ کو خود پر فخر ہو گا کہ آپ اُن کے امتی ہیں ۔

ایک بار جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آئے تو آپ


صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہوں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں

ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا

اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے

اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے

چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے

تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے

دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ

یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا

جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا

جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا

اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے


جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں

گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے

بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی

" ابا جان اسلام وعلیکم"

بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا

ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے

نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے

گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر

کہ اتنے میں حکم آگیا *"وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى*

*اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہو جائیںگے.*.

آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے

لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا..؟؟

آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ درخواست ہے کہ  خود کو کبھی بھی بدلے قسمت نہ کہے ہے یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم آپﷺ کے اُمتی ہے اگر آپ کے پاس کچھ نہیں  مگر آپ مسلمان ہو ایمان والے ہو تو آپ سے زیادہ امیر کوئی نہیں دنیاوی مال و دولت میں غریب ہی سہی ۔ لیکن کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے تو ہمیں پیارے نبی پاک ﷺ کا ساتھ پانے کے لئے اپنے نفس کی خواہشات کو کھونا پڑے گا۔  کیونکہ وہ جو امت کے غم میں اپنا آپ بھول گئے تاکہ ہمیں تکلیف نہ ہو تہمیں بھی اُن سے اور اس کے بعد خود سے اتنی محبت تو ہونی چاہیے کہ خود کو آگ کا ایندھن بننے سے بچا سکے ۔اللہ تعالی ہم سب کو اپنے نبی پاک ﷺ کے سامنے شرمندگی سے بچائے  اور ہمیں اس قابل بناے کے ہم سر اٹھا کر نبی پاک ﷺ کا سامنا کر سکے ۔بےشک ہمیں خود پر فخر ہے کہ ہم اُن کے امتی ہیں اس بات کے لیے اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔ اللہ تعالی سب کےلئے آسانیاں پیدا فرمائیں دعاؤں میں یاد رکھیں ۔                                                   ----‐-------------------------------------------------------------    English Translation 


               
I begin with the name of the Holy One who has enlightened our hearts with faith and blessed us with innumerable blessings.  We have been sent as a mercy. We are his followers. This is our good fortune, good fortune, good fortune.  With this belief your faith will be renewed and you will be proud of yourself that you are their follower.


 Once Gabriel (peace and blessings of Allaah be upon him) came to the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) and he saw that Gabriel was a little upset.  The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: Gabriel, tell me about the conditions of hell. Gabriel said: There are seven degrees of hell.
 Allah will place the hypocrites in the lowest rank among them
 In the sixth degree above that, Allah Almighty will defeat the polytheists
 Above this, in the fifth degree, Allah will place those who worship the sun and the moon
 In the fourth degree, God will put the people on fire
 In the third category, God will put the holy Jews
 Allah Almighty put Christians in the second category
 After saying this, Gabriel (peace be upon him) became silent and the Holy Prophet asked
 Gabriel, why are you silent? Tell me who will be in the first place
 Gabriel (peace be upon him) asked
 O Messenger of Allah, Allah will put the sinners of your ummah in the first category


 When the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) heard that my ummah would also be cast into Hell, he became very sad and he started praying to Allaah.  The Companions used to go to the hujra and close the door and cry before Allah, weeping and crying.
 They are not even going home.  When the third day came, Abu Bakr was not released from the house.  He came to Omar weeping and said: I greeted you but I did not get the answer of greeting, so you may go. You may get the answer of greeting.  Sent to Farsi but still did not respond to greetings. Hazrat Salman Farsi mentioned the incident to Ali (RA).
 Rather, I should send his enlightened daughter Fatima inside.  So you told Fatima everything. She came to the door of the room
 "Abba Jan Islam Walaikum"
 Hearing her daughter's voice, Mehboob Kainat got up, opened the door and answered the salutation
 Father, how is it that you have been here for three days?
 The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: Gabriel has informed me that my ummah will also go to Hell.
 The sinners are grieving and I am praying to my Lord that Allah may forgive them and acquit them from Hell saying that you went back in prostration and started crying  Have mercy and set them free from Hell
 That is how the ruling came * "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى *"
 * O my beloved, do not grieve, I will give you so much that you will be satisfied. *.
 He rejoiced and said: O people, Allah has promised me that on the Day of Resurrection He will be pleased with me in the matter of my ummah and I will not be satisfied till my last ummah has gone to Paradise.


 Tears came to my eyes while writing that our prophet is so kind and sad and what did we give him in return .. ??
 One second is your way of conveying this message to other people. I humbly request you never to change your destiny. It is our good fortune that we are your nation if you have nothing but you are Muslim.  If you are a believer, there is no one richer than you, even though he is poor in worldly wealth.  But if we have to lose something in order to gain something, then we have to lose the desires of our souls in order to be with the beloved Holy Prophet.  Because those who forgot themselves in the grief of the Ummah so that we do not get hurt, you should also love them and then yourself so much that you can save yourself from becoming the fuel of fire. May Allah bless us all with His Holy Prophet.  Save us from embarrassment in the presence of Allah and enable us to face the Holy Prophet with our heads held high. Indeed, we are proud of ourselves that we are his followers.  Make it easy for everyone to remember in prayers. 

Comments