کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات Carona Virus and islamic teachings 27 april 2021,14 Ramdan 1442

          


السلام و علیکم شروع کرتی ہوں اس پاک ذات کے نام سے جس نے ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی بخشی اور ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ۔ان نعمتوں سے ہی انسان کی  آزمائش کی آزمائش کی جاتی ہے آج کل ہم ایک وبائی مرض جیسے کرونا وائرس کے نام سے جانا جاتا ہے اس سے دو چار ہیں اس کی وجوہات جان لینے کے بعد اس کو اسلامی تعلیمات میں کیسے دیکھا جاتا ہے یہ جاننے کے لیے اور بیان کرنے کے لیے یہ ایک چھوٹی سی کوشش ہے جس کی توفیق اللہ تعالی نے عطا کی ہے اس کے لیے اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔                                                           اس وبائی مرض کے متعلق ایک حدیث ہے نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ" جس علاقے میں کوئی وبائی مرض پھیل جائے تو اس علاقے کے مکینوں کو چاہیے کہ وہ اس علاقے سے باہر نا جاۓ اور نہ ہی کوئی باہر سے اس وبائی مرض میں مبتلا علاقے میں جاۓ " ۔

                                                  اس لیے اس مرض سے پچاؤ کے لیے  احتیاطی تدابیر میں سرفہرست یہی ہے کہ اپنے گھروں میں رہے تو اس پر عمل کرنا ہم سب کا اولین  فریضہ ہے  کیونکہ یہ بات حدیث سے بھی ثابت شدہ ہے ۔لیکن اسلامی تعلیمات کے حوالے سے دیکھا جائے تو اسلام نے ہمیں ہر طرح حالات کے لیے ایک مکمل طریقہ کار سیکھایا ہے۔اسلام نے انسان کو زندگی گزارنے کے لیے ہر دکھ ، درد،خوشی ،غمی کے لیے بڑی واضح تعلیمات سیکھائی ہے ۔                                                                   اسلام نے مسلمانوں کو ایک مکمل نظریہ فراہم  کیا ہے ہر طرح کے حالات سے لڑنے کے لیے ،بےشک قرآن مجید ہر مرض کی شفا ہے تو اس  بیماری کے لیے بھی قرآن مجید میں واضح طور پر بتایا گیا ہے ۔ قرآن کریم کی  سورۃ انبیاء کی آیت نمبر ۸۷ ہے" تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،تو پاک ہے یقینا میں ہی ظالموں سے ہوں" ۔         

                       
بلاشبہ انسان خطا کار ہے وہ کبھی جانے انجانے میں ایسے ظلم ایسے گناہ کر دیتا ہے اور وہ پھر سزا یا آزمائش کی صورت میں اس کو لپیٹ میں لے لیتے ہیں تب انسان سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے کہ یہ ایسا میری زندگی میں کیوں ہو رہا ہے اس آزمائش میں بھی  شاید اسی وجہ سے مبتلا کیے گئے ہیں تو اس کے لیے اس قرآنی آیت کا پڑھنا بہت بابرکت ثابت ہو گا ۔حضرت یونس علیہ السلام کو بھی جب اللہ تعالی نے سزا کے طور پر مچھلی کے پیٹ میں بھیجا  تو انہوں نے اللہ کے حضور جھک کر اس آیت مبارکہ کو پڑھا تو اللہ تعالی نے ان کی دعا قبول فرما کر ان کو رہائی  عطا کی ۔ اس آیت مبارک کے متعلق ایک حدیث ہے" سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مومن بندہ اپنے جائز مقاصد کے لئے  ان کلمات کے ساتھ دعا کرتا ہے اللہ تعالی اس کی دعا قبول فرماتا ہے "۔   

       
اسی طرح قرآن مجید کی ایک اور آیت ہمیں مشکلات اور مصیبتوں سے رہائی کا درس دیتی ہے  آیت کریمہ کا ورد  اس وبائی مرض کرونا وائرس سے نجات دلا سکتی ہے(انشاءاللہ) ۔سورۃ انعام کی آیت نمبر ۱۷ میں کچھ یوں بیان کیا گیا ہے "اگر اللہ تم کو کوئی سختی پہچائے تو اس کے سوا کوئی اور دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (راحت)عطا کرے تو (کوئی اسے روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے"۔           بےشک وہ رحمان ہے وہ اپنے بندوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا  اور اگر ہم سچے دل سے اللہ کے حضور جھک کر توبہ کرے اپنے گناہوں کی معافی مانگے نماز اور قرآن مجید کو اپنا اشعار بنا لے تو ہماری آزمائشیں بھی ختم کرے گا اور ہماری مشکلات بھی آسان فرمائے گا ۔اللہ تعالی  قرآن مجید میں بیان فرماتا کے "بےشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے "۔           اللہ تعالی ہم سب کو اس بیماری ،وبا اور آزمائش سے نجات عطا فرمائے آمین ۔اللہ تعالی سب کےلئے آسانیاں پیدا فرمائیں دعاؤں میں یاد رکھیں ۔                       _______________________________________________ 
"English Translation "                                          Let me begin with the name of the Holy One who has enlightened our hearts with faith and blessed us with innumerable blessings. It is with these blessings that human beings are put to the test.  It is a small effort to know and explain how it is viewed in Islamic teachings after knowing the reasons for it. This is a small effort which has been given by Allah Almighty.  There is less to be thanked for than Allah Almighty.  There is a hadith about this epidemic. The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: “If an epidemic spreads in an area, the residents of that area should not go outside the area and no one from outside should be affected by the epidemic.  Let me go  Therefore, the foremost precautionary measure against this disease is that if you stay at home, it is the first duty of all of us to follow it, because it is also proven by the hadith.  Has taught us a complete method for all kinds of situations. Islam has taught man very clear teachings for every sorrow, pain, joy, sorrow to live.  Islam has provided Muslims with a complete ideology to fight against all kinds of situations. Of course, the Qur'an is the cure for every disease, so it is clearly stated in the Qur'an for this disease as well. 

Verse No. 87 of Surah Anbiya of the Holy Qur'an is "No one is worthy of worship except You, Glory be to You, surely I am of the wrongdoers."  Undoubtedly, man is a sinner. He unknowingly commits such cruelty and such a sin, and then he embraces it in the form of punishment or trial. Then man is unable to understand why this is happening in my life.  Perhaps this is the reason why he has been subjected to this ordeal, so it will be very blessed for him to recite this Qur'anic verse.  He bowed down and recited this blessed verse, then Allah accepted his prayer and granted him release.  There is a hadith about this blessed verse: It is narrated on the authority of Sa'd ibn Abi Waqqas that the Holy Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: "Whoever prays for these legitimate purposes with these words, Allaah will accept his supplication. " "  Similarly, another verse of the Holy Quran teaches us to get rid of difficulties and troubles. The word of this verse can save us from this contagious disease (InshaAllah). 

If Allah afflicts you with hardship, there is no remover except Him, and if He bestows blessings, He is Able to do all things. "  Verily, He is the Most Merciful. He does not return His servants empty-handed.  Allah Almighty states in the Holy Qur'an that "with  every difficulty there is ease".  May Allah Almighty save us all from this disease, epidemic and trial. Amen. May Allah Almighty create ease for all. Remember in your prayers. 

Comments

Post a Comment